چناس کے مقام پر بڑے پہاڑ سے پتھر گرنے کے باعث قراقرم ہائی وے بند، ہزاروں مسافر پھنس گئے

0

چناس کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند قراقرم ہائی وے

گلگت بلتستان کے ضلع نگر میں واقع چناس کے علاقے میں بڑے پیمانے پر پہاڑ سے پتھر گرنے کے باعث قراقرم ہائی وے (KKH) بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں ہزاروں مسافر اور سیاح راستے میں پھنس گئے۔

نگر کے ڈپٹی کمشنر اصغر خان کے مطابق یہ واقعہ منگل کی علی الصبح پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہاڑ سے پتھر گرنے کا یہ واقعہ فجر کے وقت ضلع نگر اور گلگت کی سرحد کے قریب پیش آیا، جس کے باعث شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی۔

ڈپٹی کمشنر نے مسافروں اور سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قراقرم ہائی وے پر سفر سے عارضی طور پر گریز کریں اور سڑک کی بحالی سے متعلق سرکاری اعلامیے کا انتظار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ضروری سفر نہ صرف خطرناک ہو سکتا ہے بلکہ امدادی سرگرمیوں میں بھی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

اصغر خان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کو آگاہ کر دیا گیا، جس کے بعد بھاری مشینری موقع پر روانہ کر دی گئی ہے۔ سڑک سے ملبہ ہٹانے اور شاہراہ کو بحال کرنے کا کام جاری ہے تاہم پہاڑی علاقے اور مسلسل پتھر گرنے کے خدشے کے باعث کام احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق پہاڑ سے بڑے بڑے پتھر گرنے سے سڑک کا ایک بڑا حصہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے گلگت اور ہنزہ جانے والی ٹریفک دونوں اطراف سے رک گئی۔ کئی مسافر گاڑیاں، مال بردار ٹرک اور سیاح گھنٹوں سے سڑک پر پھنسے ہوئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قراقرم ہائی وے پہاڑی علاقوں میں بارشوں اور موسم کی تبدیلی کے باعث اکثر لینڈ سلائیڈنگ کا شکار رہتی ہے، اسی لیے مسافروں کو موسم اور سڑک کی صورتحال معلوم کر کے ہی سفر کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

انتظامیہ نے مزید بتایا کہ شاہراہ کی مکمل بحالی کے بعد ہی ٹریفک کو بحال کیا جائے گا تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ مسافروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر عمل کریں۔

واضح رہے کہ اس خبر کے ساتھ استعمال کی جانے والی تصویر AI سے تیار کردہ ہے اور صرف حوالہ (ریفرنس) کے لیے ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز کا مری میں غیرقانونی ہوٹلوں اور تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *