9 مئی ڈیجیٹل دہشتگردی کیس: انسداد دہشتگردی عدالت نے پانچ ملزمان کو عمر قید کی سزائیں سنا دیں

0

انسداد دہشتگردی عدالت کا فیصلہ انسداد دہشتگردی عدالت

وفاقی دارالحکومت کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی 2023 کے معروف ڈیجیٹل دہشتگردی کیس میں فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں عدالت نے پانچ ملزمان کو دو، دو بار عمر قید کی سزائیں سنائیں ہیں۔ عدالت نے ان کے خلاف دیگر دفعات کے تحت مجموعی طور پر 35 سال قید اور 15 لاکھ روپے جرمانہ بھی نافذ کیا ہے۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے عدالت عظمیٰ فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان نے ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل مہمات، اشتعال انگیزی اور منظم طریقے سے سوشل میڈیا پر دہشتگردی کے فعل کو فروغ دینے میں حصہ لیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ریاست کے خلاف ایسی کارروائیاں ملکی سلامتی، معاشرتی امن اور قانون کی بالادستی کے لیے خطرہ ہیں، اس لیے سخت سزائیں ضروری تھیں۔

عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مقدمے کی سماعت مکمل کر لی تھی اور ٹرائل میں استغاثہ کی جانب سے 24 گواہان پیش کیے گئے تھے۔ عدالت نے ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا، جیسا کہ انسداد دہشتگردی قوانین میں ممکن ہے۔ A

اس فیصلے میں عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر اور معید پیرزادہ جیسے نام شامل ہیں، جنہیں عدالت نے ہر ایک کو دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ ملزمان پر 15 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جسے ادا نہ کرنے کی صورت میں سزاؤں میں مزید اضافہ ہو گا۔

عدالت کے مطابق یہ سزائیں ریاستی اداروں کے خلاف منظم ڈیجیٹل دہشتگردی کی روک تھام کے لیے ایک مضبوط قانونی پیغام ہیں۔ اس مقدمے کا پس منظر 9 مئی 2023 کے واقعات سے جڑا ہوا ہے، جب ملک بھر میں احتجاجات اور پرتشدد فسادات دیکھنے میں آئے تھے، جن کے بعد متعدد مقدمات انسداد دہشتگردی عدالتوں میں زیرِ سماعت آئے۔

پنجاب میں آبی حیات کے فروغ کیلئے بڑا قدم، بنجر زمینیں شرمپ فارمنگ سے قابلِ استعمال بننے لگیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *