پنجاب میں آبی حیات کے فروغ کیلئے بڑا قدم، بنجر زمینیں شرمپ فارمنگ سے قابلِ استعمال بننے لگیں
شرمپ فارمنگ منصوبوں سے برآمدات میں اضافہ اور زرعی معیشت کو نئی سمت ملنے کی امید
پنجاب حکومت نے آبی حیات کے فروغ اور زرعی معیشت میں جدت لانے کے لیے ایک تاریخی اقدام کرتے ہوئے صوبے میں شرمپ فارمنگ کے بڑے منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پہلی بار بنجر اور سیم زدہ زمینوں کو قابلِ استعمال بنایا جا رہا ہے، جو نہ صرف زرعی ترقی میں معاون ثابت ہوں گی بلکہ برآمدات میں بھی نمایاں اضافے کا ذریعہ بنیں گی۔
سرگودھا میں شرمپ فارمنگ کے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں، جہاں 20 ایکڑ اراضی پر 9 تالاب مکمل طور پر تیار کر لیے گئے ہیں جبکہ 5,320 میٹر ڈرینج سسٹم کی تعمیر بھی مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ سرگودھا میں 124 ایکڑ پر مشتمل جدید شرمپ اسٹیٹ اور مکمل ویلیو چین قائم کی جا رہی ہے، جہاں اب تک 57 تالابوں کی کھدائی مکمل ہو چکی ہے۔
اسی منصوبے کے تحت لاہور میں ساڑھے چار ارب روپے کی لاگت سے ایک جدید کوالٹی کنٹرول لیبارٹری قائم کی جا رہی ہے، جو 99 فیصد تک مکمل ہو چکی ہے۔ یہ لیبارٹری شرمپ فارمنگ کے معیار، بیماریوں کی تشخیص اور برآمدی تقاضوں کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
جنوبی پنجاب میں مظفرگڑھ کے علاقے رکھ علی ولی میں بھی تحقیق اور شرمپ فارمنگ کے سازگار ماحول کے لیے لیبارٹری کی تعمیر 98 فیصد تک مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مظفرگڑھ میں 57 تالابوں اور 50 ٹیوب ویلز کی کھدائی مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ شرمپ فارمنگ کے لیے مجموعی طور پر 32 ٹیوب ویلز اور 8 ٹرانسفارمرز کی تنصیب کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ شرمپ فارمنگ کے آغاز سے نہ صرف بنجر زمینیں معاشی سرگرمی کا مرکز بنیں گی بلکہ صوبے کی برآمدات میں بھی بڑا اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا، کسانوں اور سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچائے گا اور پنجاب کو جدید آبی زراعت میں نمایاں مقام دلائے گا۔
ماہرین کے مطابق شرمپ فارمنگ عالمی منڈی میں ایک منافع بخش شعبہ ہے اور اگر یہ منصوبے کامیابی سے مکمل ہوئے تو پنجاب پاکستان میں آبی حیات کی برآمدات کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔
پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب! میانوالی گرین بس سٹاپ پر مسافروں کے لیے لائبریری قائم