موساد نے ایران کی نیوکلیئر طاقت کا دل کیسے چرایا؟

0

 

موساد نے ایرانی نیوکلیئر دل کیسے چرایا؟

(دجالی خفیہ ایجنسی کی تاریخ کا خوفناک ترین آپریشن)

ایک سرد، بھیگی ہوئی اور سیاہ رات تھی۔ 31 جنوری 2018ء کی وہ گھڑی جب تہران کے جنوب میں خاموشی یوں پھیلی ہوئی تھی جیسے شہر نے خود کو کمبل اوڑھا ہو، مگر اس کمبل کے نیچے دشمن کے دبے قدم لرزتے ہوئے زمین پر پڑ رہے تھے۔ گلیاں ساکت تھیں، لیکن ان سناٹے کے بیچ ایک ایسا خفیہ کھیل جاری تھا جس نے بعد میں عالمی سیاست کے نقشے پر جلتے انگارے بکھیر دیئے۔ ایک عام سا گودام، جو دکھنے میں تو مٹی اور سیمنٹ کی ایک سادہ سی عمارت تھی، مگر اس کی دیواروں میں ایران کی دہائیوں کی نیوکلیئر محنت سو رہی تھی اور اسی رات دجالی خفیہ ایجنسی موساد Mossad نے اسے جگا کر ہمیشہ کے لیے چرا لے جانے کے لیے کارروائی ڈالی تھی۔

وہ 25 ایجنٹس، جن کے قدموں کی دھمک بھی زمین نے اپنے سینے میں دبا لی تھی، گودام کے اندر داخل ہوئے اور لمحوں میں سارا تالا بندی کا نظام کاٹ کر رکھ دیا۔ جن میں ایک ایک تالہ توڑنے کے لیے ہیوی مشین کی ضرورت ہوتی ہے، مگر یوسی کوہین کے بقول چند منٹ میں بغیر کسی مشکل کے سارے قفل کھول دیئے گئے۔ یوسی کوہین Yossi Cohen اس وقت موساد کا سربراہ تھا۔ اس کی حال ہی میں ایک تہلکہ خیز کتاب چھپی ہے۔ جس میں نے دجالی خفیہ ایجنسی کی تاریخ کے اس سب سے خوفناک اور خطرناک ترین آپریشن کا احوال ذکر کیا ہے۔ کتاب کا نام ہے:

The Sword of Freedom: Israel, Mossad and the Secret War

اس میں وہ اعتراف کرتا ہے کہ یہ مہم ایک رات کی دیوانگی نہیں تھی بلکہ برسوں کی منصوبہ بندی، صبر و تحمل، مقامی بھرتیوں اور اندرونی دراڑوں کا فائدہ اٹھانے کا نتیجہ تھی۔ کئی سال سے جاری اس طویل مشن کی سربراہی خود یوسی کوہین نے کی۔ اس نے ایک لبنانی بزنس مین کے روپ میں اپنا نام اوسکار ظاہر کرکے مرکزی کردار ادا کیا۔ اس نے ڈاکٹروں، انجینئرز اور اکیڈیمک شخصیات پر مشتمل ایک نیٹ ورک تیار کیا۔ ایرانی نظام کے اندر بھی چند لوگ ایسے تھے، جنہیں موساد نے پہلے اعتماد میں لیا تھا۔ یہ سب مل کر 25 رکنی ٹیم بنی، جو ایران کے دل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ پھر آہستہ آہستہ وہ ایران کے سب سے بڑے رازوں کی چابیاں اسرائیل کو دینے لگے۔ انہی اندرونی ہاتھوں نے گودام کے محلّے، اس کے تالوں کی بناوٹ، الماریوں کی ترتیب اور نگرانی کی کمزوریاں موساد کے سامنے واضح کر دیں۔

یوسی کوہین کے بقول جب ایجنٹس نے گودام کو لوٹ لیا تو وہ فیصلہ کن گھڑی بھی آگئی، جو شاید ایران کبھی بھلا نہ پائے گا۔ صرف 62 منٹ ہاں صرف ایک گھنٹہ اور دو منٹ، میں موساد کے 25 ایجنٹس نے تقریباً آدھا ٹن حساس فائلیں، 50 ہزار صفحات اور درجنوں ڈیجیٹل ڈرائیوز سمیٹ لیں۔ جب ایران کے سائرن گونجنے کی تیاری کر رہے تھے، تب تک ایجنٹس تہران سے نہ صرف نکل چکے تھے، بلکہ ایک ایک موڑ، ایک ایک ناکہ اور ایک ایک سرحدی چیک پوسٹ پیچھے چھوڑ کر ایران کی حدود سے باہر جا چکے تھے۔ جب ایرانی حکام کو خبر ہوئی کہ “دل” چوری ہوگیا ہے، تب تک چور سمندر پار کر چکے تھے اور کچھ تہران میں ہی پہلے سے تیار ٹھکانوں میں جا کر چھپ گئے تھے۔ یہ سارا مشن ایک گولی چلائے بلکہ کسی کو تھپڑ مارے بغیر ایک ہی رات مکمل کرلیا گیا۔

تل ابیب میں جب یہ فائلیں کھولی گئیں تو دنیا نے پہلی بار دیکھا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے اندر کیا چھپا رہا تھا۔ جدید کمپیوٹر سسٹم، خودکار شناخت کے سافٹ ویئر، ایک ایک لفظ کو پڑھ کر ڈیٹا سے رشتہ جوڑنے والے ذہین آلات، سب نے مل کر ایران کی دہائیوں کی محنت کو ایک کھلی کتاب بنا دیا۔ ان دستاویزات میں ایٹمی پروگرام کے حوالے سے تمام تفصیلات موجود تھیں۔

مگر یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اصل خوف تب شروع ہوتا ہے جب ایک انسان کو نشانہ بنایا جاتا ہے، وہ بھی بغیر قاتل کے، بغیر حملہ آور کے، بغیر کسی کے قدموں کی چاپ کے۔

ایران کا سب سے بڑا سائنسدان، محسن فخری زادہ، ایک ایسا نام جسے ایران “ایٹمی پروگرام کا باپ” کہتا ہے، کئی برسوں سے موساد کی نظر میں تھا۔ اس کی ہر صبح، ہر شام، ہر راستہ، ہر ملاقات، سب کچھ خاموشی سے ریکارڈ ہوتا رہتا تھا۔ اس کے گھر، گاڑی اور سیکورٹی تک، ہر جگہ موساد کی آنکھ چھپی ہوئی تھی۔ موساد نے ڈاکٹر فخزی زادہ کا نام “فرید” رکھا ہوا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ ہفتہ میں صرف جمعہ کے روز اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے اور اس کے روٹ کا بھی مکمل کھوج لگایا گیا تھا۔ مگر ایران سمجھتا رہا کہ اس نے اسے فول پروف حصار میں چھپا رکھا ہے، مگر حقیقت یہ تھی کہ حصار کے اندر بیٹھا کوئی “دوست” موساد کا کان بنا ہوا تھا۔

27 نومبر 2020ء وہ دن تھا جب یوسی کوہین نے فیصلہ کیا کہ فخری زادہ کے “باب” کو بند کر دینا چاہیے۔ یہ قتل انسانی ہاتھ سے نہیں ہوا۔ یوسی کوہین انکشاف کرتا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ایک ریموٹ مشین گن تھی، کئی کلومیٹر دور بیٹھا ہوا شخص اس گن کو کنٹرول کر رہا تھا۔ نہ کوئی قاتل موقع پر آیا، نہ کوئی گاڑی رکی، نہ کسی سڑک پر مشکوک سایہ دیکھا گیا۔ بس ایک گولی، ایک انتہائی درست اور گنتی ہوئی گولی، جس نے ایران کے ایٹمی خواب کا سب سے بڑا ستون گرا دیا۔ ایران چیخ اٹھا، بلکہ یوں کہیے کہ ایران لرز اٹھا۔ دنیا کو پیغام دیا گیا کہ “دشمن نظر آئے یا نہ آئے، مار سکتا ہے… اور صحیح جگہ پر مار سکتا ہے۔”

ایران نے دوڑ دھوپ کی، ناکے لگائے، مشین گن کے ٹکڑوں سے سراغ نکالنے کی کوشش کی، مگر آخر میں کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔ نہ قاتل، نہ اس کے مددگار، نہ وہ نیٹ ورک جس نے فخری زادہ کی جاسوسی کی کی تھی۔ جیسے دھواں ہاتھوں میں نہیں ٹھہرتا، ویسے ہی موساد کے سائے ایران کی انگلیوں سے پھسل گئے۔

یوسی کوہین نے اس ساری مہم کے بعد صرف ایک جملہ کہا تھا، مگر وہ جملہ آج بھی ایران کے دل کے اندر کیل کی طرح گڑا ہوا ہے:

“ہم ایران کے دل تک پہنچ گئے تھے… اور دل وہ جگہ ہے جس کی حفاظت سب سے مشکل ہوتی ہے۔”

یہ داستان شاید کسی جاسوسی ناول کی لگتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ہمارے پڑوس میں، ہماری نظروں کے سامنے، انہی سڑکوں پر ہوئی جہاں لوگ روزانہ عام زندگی میں چلتے ہیں۔ کبھی کبھی حقیقت بھی افسانے سے زیادہ خوفناک ہوتی ہے اور یہ انہی لمحات میں سے ایک تھا۔ (حوالہ:Yossi Cohen, The Sword of Freedom: Israel, Mossad and the Secret War (memoir and public excerpts). (Harper Academic)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *