دو برس بعد غزہ کی جنگ: گریٹر اسرائیل کا خواب کیسے بکھرا؟

0

غزہ کی جنگ کے دو برس بعد اسرائیل کی عسکری اور سیاسی ناکامی کی عکاسی کرتا منظر

گریٹر اسرائیل کا خواب کیسے بکھرا؟

غزہ کی جنگ کے آغاز کو دو برس مکمل ہو چکے ہیں اور اس دوران اس کا دائرہ غزہ سے نکل کر لبنان، شام، یمن اور ایران تک پھیل چکا ہے۔ قابض اسرائیل نے اس پوری مدت میں غیر معمولی عسکری طاقت استعمال کی، مگر اس کے باوجود یہ دعویٰ اب کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے کہ اس جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کو اسرائیل کے حق میں بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ جنگ کے مجموعی نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل محدود عسکری کامیابیاں تو حاصل کر سکا، مگر وہ ان کامیابیوں کو پائیدار اسٹرٹیجک فوائد میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے برعکس، ایک گہری سیاسی، اخلاقی اور علاقائی ناکامی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ یہ نتیجہ الجزیرہ سینٹر فار اسٹڈیز کی اس تحقیق میں سامنے آیا ہے جو حال ہی میں شائع ہوئی۔ تحقیق کے مطابق قابض اسرائیل نے اس جنگ کو نئی علاقائی بالادستی قائم کرنے، مزاحمتی قوتوں کو فیصلہ کن طور پر کمزور کرنے اور عرب دنیا میں نارملائزیشن کے دائرے کو وسعت دینے کے ایک تاریخی موقع کے طور پر دیکھا۔ تاہم عملی نتائج اس کے بالکل برعکس نکلے۔ اسرائیل نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے قیام کا موقع گنوا بیٹھا بلکہ نئی شامی قیادت کو بھی اپنا حریف بنا لیا، ترکیہ کے ساتھ تیز رفتار کشیدگی کی راہ اختیار کی اور اپنے بنیادی دشمنوں کو طاقت کے توازن سے باہر کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ سات اکتوبر 2023ء کے بعد نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ کو بدل دے گی۔ اس کی دائیں بازو کی حکومت نے غزہ میں بے مثال تباہی مچائی اور اس کے بعد لبنان، یمن، شام اور ایران تک جارحیت کو وسعت دی۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر دیا گیا کہ اسرائیل محض ایک عسکری ردعمل نہیں دے رہا بلکہ پورے خطے کی اسٹرٹیجک ساخت کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم محاذوں کی وسعت اور جنگ کی شدت اس تبدیلی کو مستحکم کرنے کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں کا فیصلہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آیا وہ دیرپا سیاسی فوائد پیدا کرتی ہیں یا نہیں اور یہی وہ پہلو ہے جہاں اسرائیل کو شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ غزہ کی جنگ سے قبل مشرقِ وسطیٰ ایک نازک مگر قائم توازن میں جی رہا تھا۔ یہ توازن امن پر مبنی نہیں تھا بلکہ باہمی deterrence اور مفادات کے نظم پر قائم تھا۔ چار بڑی علاقائی قوتیں اسرائیل، ایران، ترکیہ اور سعودی عرب اپنے اپنے دائرۂ اثر میں سرگرم تھیں۔ اسرائیل کو عسکری برتری اور غیر مشروط مغربی حمایت حاصل تھی، مگر وہ علاقائی تنہائی اور مسلسل اخلاقی بحران کا شکار تھا۔ ایران نے عرب دنیا میں موجود خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر ریاستی اتحادیوں کے ذریعے اپنا اثر بڑھایا، اگرچہ وہ سخت پابندیوں اور معاشی دباؤ میں جکڑا ہوا تھا۔ ترکیہ نے گزشتہ دو دہائیوں میں معیشت، دفاعی صنعت اور ثقافتی اثر کو یکجا کر کے ایک جامع طاقت کا ماڈل تیار کیا اور براہِ راست ٹکراؤ سے گریز کرتے ہوئے اپنا اثر بڑھایا۔ اس کے برعکس سعودی عرب نے کشیدگی کم کرنے، مفاہمت اور مہنگی جنگوں سے گریز کی پالیسی اپنائی، جبکہ خطے میں اپنا سیاسی اور دینی وزن برقرار رکھا۔ غزہ کی جنگ نے اس پورے توازن کو یک لخت توڑ دیا اور ہر طاقت کو اپنی حیثیت، حکمتِ عملی اور صف بندی پر نظرِ ثانی پر مجبور کر دیا۔ سات اکتوبر کو فلسطینی مزاحمت کے حملے نے اسرائیلی سیکورٹی نظریے کو غیر معمولی دھچکا پہنچایا۔ یہ صرف ایک عسکری ناکامی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور سیاسی صدمہ تھا جس نے اسرائیلی ریاست کے دفاعی نظام اور قیادت دونوں کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔ ایک محدود اور محصور علاقے سے منظم حملے کے سامنے ادارہ جاتی ناکامی نے اسرائیلی معاشرے میں عدم تحفظ کے احساس کو گہرا کر دیا اور قیادت کو انتہائی سخت اور سفاک ردعمل کی طرف دھکیل دیا۔ یوں جنگ ایک محدود عسکری کارروائی کے بجائے اسرائیلی بیانیے میں ایک وجودی منصوبہ بن گئی۔ غزہ کو اس کا مرکز بنایا گیا، مگر اہداف کو لبنان، یمن، شام اور ایران تک پھیلا دیا گیا۔ تاہم یہ حد سے بڑھی ہوئی جارحیت deterrence بحال کرنے کے بجائے اسرائیل کو کئی باہم جڑے محاذوں میں الجھا گئی، جہاں سیاسی افق کے بغیر استعمال ہونے والی عسکری طاقت کی حدود پوری طرح نمایاں ہو گئیں اور اسرائیل کی علاقائی تنہائی میں اضافہ ہوا۔ غزہ اس جنگ کا مرکزی محور اور اسرائیلی ناکامی کی سب سے واضح مثال ثابت ہوا۔ ابتدا ہی سے مکمل تباہی کی پالیسی اپنائی گئی۔ انفرا اسٹرکچر، شہری ادارے اور مزاحمت کے سماجی سہارے کو نشانہ بنایا گیا تاکہ فلسطینی اجتماعی ارادہ توڑا جا سکے۔ بے مثال تباہی نے غزہ کو دہائیوں پیچھے ضرور دھکیل دیا، مگر اسرائیل وہ فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ کر سکا جس کا اس نے تصور کیا تھا۔ غزہ کی مزاحمت کو بھاری نقصانات پہنچنے کے باوجود نہ تو اسے ایک مؤثر عسکری و سیاسی قوت کے طور پر ختم کیا جا سکا، نہ مکمل زمینی کنٹرول قائم ہو سکا اور نہ ہی اس کی تنظیم نو کی صلاحیت ختم کی جا سکی۔ سب سے اہم بات یہ کہ جبری بے دخلی کا منصوبہ، خواہ اعلانیہ ہو یا پوشیدہ، مکمل طور پر ناکام رہا اور فلسطینی آبادی شدید انسانی المیے کے باوجود اپنی زمین پر ڈٹی رہی۔ اس جنگ کا ایک سنگین اور دیرپا اثر بین الاقوامی سطح پر سامنے آیا۔ نسل کشی کے مناظر نے اسرائیل کی اخلاقی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا، اس کے سیاسی و عسکری رہنماؤں کو پہلی مرتبہ عالمی عدالتی کارروائیوں اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا اور مغربی معاشروں میں رائے عامہ کا رخ اس انداز میں بدلا جسے پلٹانا آسان نہیں دکھائی دیتا۔ لبنان میں قابض اسرائیل نے ملیشیا کو نمایاں عسکری نقصان پہنچایا، قیادت کو نشانہ بنایا اور وسیع تباہی پھیلائی، مگر وہ نہ تنظیم کو توڑ سکا اور نہ اس کی سماجی و سیاسی بنیادیں ختم کر سکا۔ لبنان کا فرقہ وارانہ اور نازک سیاسی ڈھانچہ ملیشیا کو بزورِ طاقت غیر مسلح کرنے کی ہر کوشش کو خانہ جنگی کے خطرے سے جوڑ دیتا ہے۔ جنوبی لبنان میں کچھ عارضی زمینی تبدیلیوں کے باوجود اسرائیل کو کوئی مستقل اسٹرٹیجک ضمانت حاصل نہ ہو سکی۔ یہ محاذ ایک ایسی جنگ ثابت ہوا جو دونوں فریقوں کو کمزور تو کرتی ہے مگر کسی حتمی انجام تک نہیں پہنچتی۔ یمن میں بھی اسرائیلی اور اتحادی حملے حوثیوں کو روکنے میں ناکام رہے۔ اس کے برعکس باب المندب میں جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت نے حوثیوں کے علاقائی اور علامتی مقام کو مزید مضبوط کیا اور انہیں عرب و اسلامی عوام میں اضافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ شام میں اسد نظام کے زوال کے بعد اسرائیل کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ بغیر بڑی عسکری قیمت کے شمالی محاذ کو نسبتاً مستحکم کرے۔ تاہم مسلسل فضائی حملوں، دراندازیوں اور نئی شامی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی پالیسی نے شام کو تعمیرِ نو کے بجائے دوبارہ تصادم کے راستے پر ڈال دیا۔ اس طرزِ عمل نے نئی شامی قیادت کو بھی اسرائیل کو براہِ راست خطرہ سمجھنے پر مجبور کیا اور ترکیہ کے ساتھ بالواسطہ تصادم کے امکانات بڑھا دیئے، جو شام کے استحکام کو اپنی قومی سلامتی سے جوڑتا ہے۔ ایران کے ساتھ محاذ آرائی اسرائیلی حکمتِ عملی کا سب سے حساس اور خطرناک پہلو ثابت ہوئی۔ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں سے انفرا اسٹرکچر کو نقصان ضرور پہنچا، مگر نہ جوہری پروگرام ختم ہوا اور نہ تکنیکی مہارت۔ اس کے برعکس ایران نے اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تعمیرِ نو کی رفتار تیز کی اور روس و چین کے ساتھ اسٹرٹیجک تعاون کو مزید مضبوط بنایا۔ یوں یہ تصادم ایک طویل المدت کھلے بحران میں بدل گیا، جہاں فیصلہ کن ضرب کے بجائے مرحلہ وار جھڑپوں کا امکان زیادہ ہے۔ سعودی عرب کے لیے غزہ کی جنگ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ جنگ سے قبل ریاض نارملائزیشن کا سب سے بڑا انعام سمجھا جا رہا تھا، مگر غزہ میں خونریزی اور اس کے عوامی اثرات نے کسی بھی تعلق کو سیاسی اور اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول بنا دیا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل کی گرتی ہوئی اخلاقی ساکھ اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روکنے کی پالیسی نے دونوں کے درمیان خلیج کو وقتی کے بجائے ساختی بنا دیا۔ سعودی عرب نے اپنی روایتی پوزیشن مضبوطی سے دہرا دی کہ فلسطینی ریاست کے بغیر نارملائزیشن ممکن نہیں۔ ترکیہ بھی جنگ کے بعد ایک نمایاں اور غیر متوقع عنصر کے طور پر سامنے آیا۔ فلسطینیوں کی کھلی حمایت، عوامی دباؤ اور شام میں اسرائیلی اقدامات نے انقرہ کو اسرائیل کو ایک ممکنہ اسٹریٹجک حریف کے طور پر دیکھنے پر مجبور کیا۔ اسرائیلی تھنک ٹینکس میں بھی ترکیہ کو پہلی بار ایک بڑی علاقائی چیلنج کے طور پر زیرِ بحث لایا جانے لگا۔ یوں اسرائیل نے اپنے دشمنوں کی فہرست میں ایک مضبوط علاقائی طاقت کا اضافہ کر لیا۔ دو برس کی جنگ کا مجموعی حاصل یہ ہے کہ قابض اسرائیل عسکری طاقت کو سیاسی اور اسٹرٹیجک فوائد میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا۔ وہ نہ فلسطینی مزاحمت کا خاتمہ کر سکا، نہ لبنانی ملیشیا، حوثیوں یا ایران کو طاقت کے توازن سے باہر کر سکا اور اس کے برعکس سعودی عرب، شام اور ترکیہ جیسے اہم ممالک کو اپنے خلاف صف بند ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس طرح یہ جنگ بنجمن نیتن یاھو کے وعدے کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کو اسرائیل کے حق میں تبدیل نہیں کر سکی بلکہ ایک زیادہ معاندانہ، غیر یقینی اور تصادم سے بھرپور علاقائی ماحول کو جنم دے گئی، جہاں اسرائیل آج بھی ایک کھلے اسٹریٹجک بحران سے دوچار ہے اور اس کا کوئی واضح اور پائیدار حل فی الحال دکھائی نہیں دیتا۔

(ضیاء چترالی بحوالہ: الجزیرہ)

غزہ میں اسرائیل کا سب سے بڑا پٹھو ” یاسر ابو شباب گھات میں پھنس کر ہلاک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *